ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بے روزگاری، مہنگائی اور ’متر‘ کا گھوٹالہ چھپانے کے لیے بی جے پی ایوان میں بولنے کا موقع نہیں دے رہی: ملکارجن کھرگے

بے روزگاری، مہنگائی اور ’متر‘ کا گھوٹالہ چھپانے کے لیے بی جے پی ایوان میں بولنے کا موقع نہیں دے رہی: ملکارجن کھرگے

Sat, 18 Mar 2023 10:57:35    S.O. News Service

نئی دہلی، 18/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی حکومت اور بی جے پی صدر جے پی نڈا پر آج شدید حملہ کیا۔ خصوصاً جے پی نڈا کی انھوں نے اس لیے تنقید کی کیونکہ اپنے ایک بیان میں انھوں نے راہل گاندھی کو اینٹی نیشنل کہا تھا۔ اس تعلق سے ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ’’وہ (نڈا) خود ہی اینٹی نیشنل ہیں۔ آزادی کے وقت بھی ملک کی تحریک آزادی میں انھوں نے حصہ نہیں لیا۔ جو خود اینٹی نیشنل ہیں وہ دوسروں کو اینٹی نیشنل بول رہے ہیں۔ دراصل ان کے پاس عوامی ایشوز کا کوئی جواب نہیں ہے۔ عوام جس بے روزگاری اور مہنگائی کا سامنا کر رہی ہے، اس کا حکومت کے پاس جواب نہیں ہے۔ اڈانی کا معاملہ ہم سب کے سامنے ہے، وہ اُس پر جواب کیوں نہیں دیتے؟ یہ ساری باتیں اڈانی کو بچانے کے لیے ہو رہی ہیں۔‘‘

ملکارجن کھرگے نے اس تعلق سے کچھ ٹوئٹس بھی کیے ہیں۔ اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’جنھوں نے آزادی کی لڑائی میں ذرا بھی تعاون نہیں دیا، وہ اصلی اینٹی نیشنل ہیں۔ بی جے پی زبردست بے روزگاری، کمر توڑ مہنگائی اور ’پرم متر‘ (خاص دوست) کے گھوٹالے کو چھپانے کے لیے، اس سے دھیان بھٹکانے کے لیے یہ سب باتیں کر رہی ہے۔‘‘

اپنے اگلے ٹوئٹ میں کھرگے نے لکھا ہے کہ ’’خود مودی جی چھ سات ممالک میں جا کر بیرون ممالک کی زمین پر کہا ہے کہ ’ہندوستان کے لوگ بول رہے ہیں کہ ہم نے کیا گناہ کیا جو ہم ہندوستان میں پیدا ہوئے۔‘ ایسا شخص ہم کو اینٹی نیشنل بول رہا ہے؟ مودی جی نے ہندوستان کے شہریوں کی بے عزتی کی، آپ کو معافی مانگنی چاہیے۔‘‘

ایک دیگر ٹوئٹ میں کھرگے نے کہا کہ ’’یہ جو جے پی نڈا بول رہے ہیں، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ مودی جی نے چین میں جا کر، امریکہ میں جا کر، جنوبی کوریا میں جا کر ہندوستانی شہریوں کی بے عزتی کی۔ مودی جی کو معافی مانگنی چاہیے۔ ہمارا معافی مانگنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں ’’جو شخص جمہوریت کی بات کرتا ہے، اس پر فکر ظاہر کرتا ہے، وہ اینٹی نیشنل نہیں ہو سکتا۔ وہ سچا محب وطن ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں راہل گاندھی کو بولنے کا موقع ملے گا تو ہم بی جے پی کے ان الزامات کا پرزور جواب دیں گے۔‘‘


Share: